Pakistan · Iran · Diplomacy
ایران اب اور مزید کیا کرے؟؟
Source: P4P Global Desk
آپ میں سے کچھ لوگ پوری پوسٹ پڑھتے نہیں اورجلدی میں غیر متعلقہ بات کر دیتے ہیں- پہلے پڑھیں پھر کمنٹ کریں- ایران نے پہلے مزاکرات اور معاہدہ امریکہ کے مرضی کے مطابق کیا 2015 میں جس کے ضامن روس، چین، فرانس ، برطانیہ اور جرمنی تھے- امریکہ نے یہ اعلی درجے کا معائدہ 2019 میں پھاڑ کر پھینک دیا جبکہ ایران نے اس معاہدے پہ مکمل عمل درآمد کیا تھا مگر امریکہ نے اپنے حصے کی شرائط پہ عمل بھی نہیں کیا تھا- ٹرمپ کی دوسرے دور میں 2025 میں امریکہ نے دوبارہ بات چیت شروع کی جس میں امریکی مطالبے ایران یہاں تک تیار ہو گیا کہ دس سال تک پُرامن مقاصد کے بھی ایران ایٹمی پاور پلانٹس استعمال نہیں کرے گا- سب ٹھیک جا رہا تھا کہ امریکہ نے اچانک حملہ کر دیا جو 10 روز تک جاری رہا- ایران نے جوابی کارروائی کی ہرمز بند کرنے کی دھمکی دی تو امریکہ نے فتح کا اعلان کر کے جنگ بند کر دی اور یہ کہا کہ ایران کی نیوکلئیر صلاحیت مکمل طور پہ ختم کر دی ھے- لیکن اس کے کچھ ہی عرصہ بعد اسرائیل نتن یاہو نے کہنا شروع کیا کہ ایک ماہ میں ایک ہفتے ایران نیوکلئیر پاور بن رہا ھے- جبکہ امریکہ کے تمام اداروں نے اسکی تردید کی مگر ٹرمپ نے موساد اور نتن یاہو کی سنی اور ایران کی پوری قیادت ایک ہی وار میں قتل کر دی اور ایران پہ دوبارہ بمباری شروع کر دی - لیکن ایران نے جواب میں اسرائیل اور علاقے میں امریکی فوجی اڈوں کی نہ صرف اینٹ سے اینٹ بجا دی بلکہ ہرموز بھی بند کر دیا - امریکہ نے پاکستان کو بیچ میں ڈال کر ایران سے ایک ذلت آمیر معاہدے پہ دستخط کر دئیے جسے معاہدہ ء اسلام آباد کا نام دیا گیا - اس معاہدے پہ خود امریکہ میں خوب تنقید ہوئی ، اتنی کہ دو دن بعد ہی امریکہ نے پہلی خلاف ورزی کی اور لبنان میں بجائے جنگ بندی کے لبنان اور اسرائیل کے وزیر اعظم کو بٹھا کر حزب اللہ کے خلاف معائدہ الگ سے کروا دیا- اور جنگ بندی کی شرط جو سب سے پہلی شرط تھی اسے ماننے سے خود ہی بے ہودہ طریقے سے انکار کر دیا- دوسری شرط جسکی خلاف ورزی ہوئی وہ یہ تھی ایران کو 20 ارب ڈالر کے اسکے اپنے چوری شدہ پیسے فوری ادا کئے جائیں گے- زیرو پیسہ بھی ادا نہیں ہوا- تیسری شرط شق نمبر پانچ کی خلاف ورزی کی جس کے مطابق ہرمز کھول دیا جائے گا مگر اسکے موجودہ حالات میں کوئی تبدیلی ایران کی مشاورت کے بغیر نہیں کی جائے گی- اسکی خلاف ورزی کرتے ہوئے نیا روٹ بنا کر امریکہ نے ہرمز کے ایک علاقے پہ قبضہ کر لیا اور ساتھ بیس فیصد ٹیکس کا بھی اعلان کر دیا- اس پہ ایران نے ردعمل دیا اور دو یا تین جہاز نشانہ بنائے- ٹرمپ کو ذلت آمیز معاہدے پہ ہر طرف سے دباؤ کا شکار تھا دوبارہ حل ملے شروع کر دئیے جو 17 دن جاری رہے جسکا شدید جواب ایران نے دیا اور ہرمز دوبارہ بند ہو گئی- امریکہ کے پاس انٹرسیپٹر کی شدید کمی ہو گئی اور حملے بند ہو گئے- لیکن امریکہ نے ایران کے خلاف اب معاشی جنگ شروع کر دی- اور ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے دنیا کے ہر ملک پہ پابندیوں کی دھمکی دے دی- ایران نے اسے ایکٹ آف وار کہا ھے اور ناکہ بندی توڑنے کے لئے امریکہ بحری بیڑے پہ ایک مؤثر حملہ کیا جو کہ علامتی تھا- امریکہ گھبرا کر اپنے بحری بیڑے کو گلف آف عمان سے 400 کلومیٹر دور لے گیا- اب لڑائی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ھے- امریکہ ایران کے پانچ آئیل ٹینکرز تباہ کر چکا ھے اور ایران نے جواب میں امریکہ کے مبینہ طور پہ سات ٹینکرز تباہ کئے جسکی تصدیق آزاد کسی زریعے سے ابھی نہیں- البتہ اندرون میں امریکی اڈوں پہ شدید حملہ کیا ھے- اب امریکہ کی طرف سے ایران کو مزید معاشی دباؤ میں لانا ھے کیونکہ اسلحے کی جنگ میں امریکا پہلے ہی ہار چکا ھے- اب ایران کا کیا موقف ھے- ایران کہتا ھے بلکل مزاکرات کرتے ہیں لیکن پہلے 17 جون والے معاہدے پہ عمل تو کرو جس پہ خود اسی امریکی صدر نے دستخط کئے تھے- اور موٹی تین باتیں ہیں- ہر طرف جنگ بندی کرو سمیت غزہ اور لبنان کے- ضبط شدہ ایرانی رقم معاہدے کے مطابق واپس کرو - ہرمز اسی شرط پہ کھلے گا جو معاہدے میں لکھی ہوئی ھے-
یہ سب حقائق کا آپ سب کو بھی پتہ ھے- اب وہ لوگ جو ایران کو غلط سمجھتے ہیں وہ بتائیں ایران اور کیا کرے؟؟ شاید آپ چاہتے ہو کہ ملک اسرائیل اور امریکہ کے حوالے کرے - کیونکہ اس سے کم پہ امریکہ نتن یاہو مانتے نہیں؟؟ راجہ سعد خان